بنکاک،19جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے درجنوں افراد کو انسانی اسمگلنگ کے جرم کا قصور وار قرار دے دیا ہے۔ روہنگیا اور بنگلہ دیشی افراد کی اسمگلنگ کے اس معاملے میں ایک سینیئر فوجی جنرل اور سرکاری اہلکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔تھائی لینڈ کی حکومت نے مئی 2015ء میں ایک ایسے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا جو بنگلہ دیشی اور روہنگیا تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر تھائی لینڈ کے راستے ملائیشیا تک پہنچا رہا تھا۔ ان میں سے بہت سوں کو جنگلوں میں قائم کیمپوں میں تاوان کی وصولی کے لیے یرغمال بھی رکھا جاتا تھا۔ تھائی لینڈ کے ایک شخص کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں عدالت نے پینتیس برس کی قید سزا کا حکم سنایا ہے۔ یہ اسمگلر روہنگیا افراد کو ملائیشیا پہنچانے کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری رکھے ہوئے تھا۔اس کریک ڈاؤن کے سبب جنوبی مشرقی ایشیا کے بہت سے حصوں میں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی تھی کیونکہ انسانی اسمگلنگ کرنے والے، ایسے ہزاروں لوگوں کو جنگلوں میں قائم کیمپوں میں اکیلا چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ ان میں سے سینکڑوں لوگ یا تو جنگلوں ہی میں ملیریا اور بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے تھے یا پھر وہ ایسی کشتیوں میں پھنس کر رہ گئے جو ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے درمیانی سمندری علاقے میں موجودتھیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے طویل عرصے سے اس جانب توجہ مبذول کرائی جا رہی تھی کہ تھائی لینڈ کے جنوبی صوبوں کی طرف سے ہونے والی انسانی اسمگلنگ کی اس تجارت میں یا تو حکام ملوث تھے یا پھر وہ اس سب معاملے کو نظر انداز کر رہے تھے۔تھائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پتہ چلا کہ فوج، پولیس، مقامی سیاستدانوں اور مافیا کے ایسے لوگوں کا ایک گٹھ جوڑ اس تجارت کے پیچھے تھا اور ایشیا کے غریب ترین اور مشکلات میں گھرے انسانوں سے پیسے بٹورنے میں مصروف تھا۔آج بدھ 19جولائی کو بینکاک کی فوجداری عدالت کے ججوں نے 103 ملزمان کے حوالے سے اپنے فیصلے سنائے۔ ایک ملزم ریمانڈ کے دوران ہلاک بھی ہو چکا ہے۔ ان ملزمان پر انسانی اسمگلنگ، تاوان اور قتل کے الزامات عائد ہیں۔ تمام ملزمان ان الزامات سے انکاری ہیں۔سینکڑوں لوگ یا تو جنگلوں ہی میں ملیریا اور بھوک کے باعث ہلاک ہو گئے تھے یا پھر وہ ایسی کشتیوں میں پھنس کر رہ گئے جو ملائیشیا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے درمیانی سمندری علاقے میں موجودتھیں۔ملزمان میں تھائی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل مانس کونگپن بھی شامل ہیں اور یہ اعلیٰ ترین شخصیت ہیں جن پر یہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ کونگپن ملک کے جنوبی حصے کی سکیورٹی کے ذمہ داران میں شامل تھے۔ دو صوبائی سیاستدانوں کے علاوہ ایک آرمی کیپٹن، چار اعلیٰ پولیس افسران، ایک نرس اور کئی دیگر اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان پر انسانی اسمگلنگ سے لے کر غلامی پر مجبور کرنے جیسے الزامات عائدہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک محقق سونائی فاسوک کے مطابق تھائی لینڈ میں انسانی اسمگلنگ کے ذمہ داران کو زیادہ سے زیادہ موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔